Posts

Showing posts from August, 2022

Shikwa e Iqbal Vol.6

Image
Shikwa e Iqbal Vol.6 Shikwa e Iqbal Vol.6 تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں خشکیوں میں کبھی لڑتے کبھی دریاؤں میں دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں شان آنکھوں میں نہ جچتی تھی جہانداروں کی کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

Shikwa e Iqbal Vol.5

Image
Shikwa e Iqbal Vol.5 Shikwa e Iqbal Vol.5 بس رہے تھے یہیں سلجوق بھی تورانی بھی اہلِ چیں چین میں ٗایران میں ساسانی بھی اسی معمورے میں آباد تھے یونانی بھی! اسی دنیا میں یہودی بھی تھے نصرانی بھی پر ترے نام پہ تلوار اٹھائی کس نے؟ بات جو بگڑی ہوئی تھی وہ بنائی کس نے؟

Shikwa e Iqbal Vol.4

Image
Shikwa e Iqbal Vol.4 Shikwa e Iqbal Vol.4 ہم سے پہلے تھا عجب ترے جہاں کا منظر کہیں مسجود تھے پتھر کہیں معبود شجر خوگرِ پیکرِ محسوس تھی انساں کی نظر مانتا پھر کوئی ان دیکھے خدا کو کیونکر تجھ کو معلوم ہے لیتا تھا کوئی نام ترا؟ قوتِ بازوئے مسلم نے کیا کام ترا

Shikwa e Iqbal Vol.3

Image
Shikwa e Iqbal Vol.3 Shikwa e Iqbal vol.3 تھی تو موجود ازل سے ہی تری ذاتِ قدیم پھول تھا زیب چمن پر نہ پریشاں تھی شمیم شرط انصاف ہے اے صاحبِ الطافِ عمیم بوئے گل پھیلتی کس طرح جو ہوتی نہ نسیم؟ ہم کو جمعیتِ خاطر یہ پریشانی تھی ورنہ اُمت ترے محبوبؐ کی دیوانی تھی

Shikwa e Iqbal Vol.2

Image
  Shikwa e Iqbal Vol.2 Shikwa Vol.2 ہے بجا شیوہ تسلیم میں مشہور ہیں ہم قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم سازِ خاموش ہیں فریاد سے معمور ہیں ہم نالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہم اے خدا شکوۂ اربابِ وفا بھی سن لے خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِلا بھی سن لے

Shikwa e Iqbal Vol.1

Image
  Shikwa Vol.1 Shikwa Vol. 1 کیوں زیاں کار بنوں سود فراموش رہوں؟ فکر فرداں نا کروں محوِ غم دوش رہوں نالے بلبل کے سنوں اور ہمہ تن گوش رہوں ہمنوا میں بھی کوئی گل ہوں کہ خاموش رہوں؟ جرأت آموز میری تابِ سخن ہے مجھ کو شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو